ہفتہ 4 جولائی 2026 - 11:28
فلسفۂ غیبت اور زمانۂ غیبت میں ہماری ذمہ داریاں!

حوزہ/اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو ہر زمانے کے انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرامؑ اور ان کے بعد آئمہ اہلِ بیتؑ کو مقرر فرمایا۔ سلسلۂ امامت کی آخری کڑی حضرت امام مہدیؑ ہیں، جن کے بارے میں رسولِ اکرم (ص) نے بشارت دی کہ وہ آخری زمانے میں ظہور فرما کر دنیا کو ظلم و جور سے پاک کرکے عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔

تحریر: سیدہ دعا زہراء رضوی جامعہ المصطفیٰ کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی|

خلاصہ

عقیدۂ مہدویت اسلام کے بنیادی اور امید افزا عقائد میں سے ایک ہے، جو انسان کو صبر، استقامت، امید اور مسلسل جدوجہد کا درس دیتا ہے۔ حضرت امام مہدیؑ اللہ تعالیٰ کی آخری حجت ہیں، جو اس وقت پردۂ غیبت میں ہیں اور اللہ کے حکم سے مقررہ وقت پر ظہور فرما کر دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ غیبت کا دور درحقیقت اہلِ ایمان کی آزمائش اور تربیت کا زمانہ ہے، جس میں ہر مومن پر لازم ہے کہ وہ امامؑ کی معرفت حاصل کرے، اپنے دین پر ثابت قدم رہے، اخلاق و کردار کی اصلاح کرے اور ظہور کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اس تحریر میں انتظارِ فرج کے حقیقی مفہوم، فلسفۂ غیبت، امامؑ کی غیبت کی حکمت اور عصرِ غیبت میں ہماری بنیادی ذمہ داریوں کو قرآنِ کریم، احادیثِ اہلِ بیتؑ اور معتبر علمی مصادر کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

مقدمہ

اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو ہر زمانے کے انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرامؑ اور ان کے بعد آئمہ اہلِ بیتؑ کو مقرر فرمایا۔ سلسلۂ امامت کی آخری کڑی حضرت امام مہدیؑ ہیں، جن کے بارے میں رسولِ اکرم (ص) نے بشارت دی کہ وہ آخری زمانے میں ظہور فرما کر دنیا کو ظلم و جور سے پاک کرکے عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔

غیبت کا مطلب یہ نہیں کہ آپؑ امت سے بے خبر ہیں، بلکہ آپؑ زندہ ہیں، امت کے حالات سے باخبر ہیں اور اللہ کی مشیت کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس دور میں ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ امامؑ کی معرفت حاصل کرے، ان کی تعلیمات پر عمل کرے اور اپنے کردار کو اس طرح سنوارے کہ ظہور کے وقت امامؑ کے حقیقی انصار میں شامل ہو سکے۔

انتظارِ فرج کا مفہوم

لغوی اعتبار سے انتظار کے معنی کسی چیز کی امید رکھنا اور اس کی آمد کے لیے آمادہ رہنا ہیں، لیکن اسلامی تعلیمات میں انتظارِ فرج کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ انتظار صرف کسی شخصیت کی آمد کا انتظار نہیں بلکہ ایک ایسی فکری، روحانی اور عملی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو ہر لمحہ اصلاح، تقویٰ، ذمہ داری اور جدوجہد کی طرف متوجہ رکھتی ہے۔

رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ.

یعنی "تمام اعمال میں سب سے افضل عمل انتظارِ فرج ہے۔"

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ انتظار کوئی سستی یا بے عملی نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ حقیقی منتظر وہ ہے جو اپنی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، عدل و انصاف کو فروغ دے، اپنے اخلاق کو سنوارے اور ہر وقت اپنے آپ کو امامؑ کی نصرت کے لیے تیار رکھے۔ انتظار انسان کے دل میں امید پیدا کرتا ہے کہ باطل ہمیشہ باقی نہیں رہتا بلکہ ایک دن حق ضرور غالب آتا ہے۔

فلسفۂ غیبت اور امامؑ کی غیبت کی حکمت

حضرت امام مہدیؑ کی غیبت اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ایک الٰہی راز ہے۔ اگرچہ اس کی تمام حکمتیں انسان کے لیے مکمل طور پر واضح نہیں، لیکن روایات کی روشنی میں چند اہم حکمتیں بیان کی جا سکتی ہیں۔

۱۔اہلِ ایمان کا امتحان

سب سے پہلی حکمت اہلِ ایمان کا امتحان ہے۔ غیبت کے زمانے میں انسان کے ایمان، صبر اور وفاداری کا امتحان لیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کون ظاہری حالات سے متاثر ہوئے بغیر اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہتا ہے۔

۲۔ جان کا تحفظ

دوسری حکمت امامؑ کی جان کا تحفظ ہے۔ اگر امامؑ ظاہر ہوتے تو ظالم حکمران انہیں شہید کرنے کی کوشش کرتے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو عالمی عدل کے قیام کے لیے محفوظ رکھا ہے۔

۳۔ نظام کی آمادگی

تیسری حکمت یہ ہے کہ ظہور اس وقت ہوگا جب دنیا عدل کے عالمی نظام کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوگی اور اہلِ ایمان کی ایک ایسی جماعت موجود ہوگی جو امامؑ کی نصرت کی اہل ہو۔ اس لیے غیبت کا زمانہ دراصل امت کی تربیت اور آمادگی کا دور ہے۔

جس طرح حضرت خضرؑ کے بعض اعمال کی حکمت حضرت موسیٰؑ پر بعد میں آشکار ہوئی، اسی طرح امام مہدیؑ کی غیبت کی مکمل حکمت بھی ظہور کے بعد واضح ہوگی۔

زمانۂ غیبت میں ہماری ذمہ داریاں:

امامِ زمانہ کی معرفت

غیبت کے زمانے میں سب سے پہلی ذمہ داری امامِ زمانہؑ کی صحیح معرفت حاصل کرنا ہے، کیونکہ معرفت کے بغیر نہ محبت مکمل ہوتی ہے اور نہ اطاعت۔ رسولِ اکرم (ص) نے فرمایا کہ جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر جائے، اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔

دین پر ثابت قدم رہنا

دوسری اہم ذمہ داری دینِ اسلام پر ثابت قدم رہنا ہے۔ غیبت کے دور میں مختلف فتنوں، شبہات اور گمراہیوں کے باوجود قرآن، سنت اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے وابستہ رہنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔

اپنی اور معاشرے کی اصلاح

تیسری ذمہ داری اپنی اصلاح اور معاشرے کی اصلاح ہے۔ ایک حقیقی منتظر اپنے اخلاق، عبادات، معاملات اور کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بناتا ہے۔ وہ جھوٹ، ظلم، خیانت، حسد، تکبر اور دیگر برائیوں سے بچتا ہے اور عدل، امانت، دیانت، اخوت اور خدمتِ خلق کو فروغ دیتا ہے۔

دیگر ذمہ داریاں

اس کے علاوہ امامِ زمانہؑ کی یاد کو زندہ رکھنا، ان کے ظہور کے لیے دعا کرنا، دعائے عہد اور دعائے فرج کی پابندی کرنا، اہلِ بیتؑ کے علوم و معارف کو عام کرنا، امتِ مسلمہ میں شعور و بیداری پیدا کرنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنا اور جھوٹے مہدویت کے دعویداروں سے ہوشیار رہنا بھی منتظرین کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

حقیقی منتظر وہ ہے جو صرف زبان سے ظہور کی دعا نہ کرے بلکہ اپنے اعمال سے بھی اس دعا کی سچائی ثابت کرے اور ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کرے جو امامِ مہدیؑ کی عالمی حکومت کے لیے مناسب بنیاد بن سکے۔

نتیجہ

انتظارِ فرج ایک زندہ، متحرک اور تعمیری عقیدہ ہے، جو انسان کو ہر حال میں امید، صبر، تقویٰ اور مسلسل جدوجہد کا درس دیتا ہے۔ حضرت امام مہدیؑ کی غیبت اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ایک عظیم الٰہی منصوبہ ہے، جس کا مقصد اہلِ ایمان کی آزمائش، ان کی تربیت اور عالمی عدل کے قیام کے لیے مناسب حالات فراہم کرنا ہے۔

غیبت کے دور میں ہماری ذمہ داری صرف ظہور کی آرزو کرنا نہیں بلکہ اپنے ایمان، کردار اور عمل کو اس معیار تک پہنچانا ہے کہ اگر آج امامؑ ظہور فرمائیں تو ہم ان کے حقیقی انصار میں شمار ہو سکیں۔ یہی حقیقی انتظار ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو اصلاح، کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں امامِ زمانہؑ کی صحیح معرفت، ان کی اطاعت اور ان کے ظہور کے لیے حقیقی منتظر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha